ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / مہاراشٹر میں ختم نہیں ہورہا ہے کسانوں کی خود کشی کا سلسلہ، چار سال میں 1200 سے زیادہ کسانوں نے دی جان 

مہاراشٹر میں ختم نہیں ہورہا ہے کسانوں کی خود کشی کا سلسلہ، چار سال میں 1200 سے زیادہ کسانوں نے دی جان 

Sun, 23 Jun 2019 22:52:39    S.O. News Service

ممبئی،23/جون (ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا) مہاراشٹر میں کسانوں کی خود کشی کا سلسلہ رکنے کا نام نہیں لے رہا ریاستی حکومت کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ چار سال میں ریاست میں 12021 کسانوں نے خود کشی کی ہے۔یعنی ہر روز آٹھ کسانوں نے ریاست میں خود کشی کر رہے ہیں۔ایسے میں ریاستی حکومت کی اسکیموں پر سوال اٹھنے شروع ہو گئے ہیں۔کسانوں کی خود کشی کی ایک وجہ ریاست میں پانی کا بحران بھی ہے۔پانی کے بحران کا سب سے زیادہ اثر ریاست کے کسانوں پر پڑتا دکھائی دے رہا ہے۔ایسے کئی کسان ہیں جو قرض نہ اداکرپانے کی وجہ سے خود کشی کر رہے ہیں۔متاثرہ خاندان کا کہنا ہے کہ پانی کی کمی کی وجہ سے فصل اچھی نہیں ہوتی ہے۔جب فصل ہی نہیں ہوگی تو قرض کہاں سے ادا کیاجائے گا۔ایسے ہی ایک کسان رالے گاؤں تحصیل میں رہنے والے چماجی شنڈے تھے۔چماجی نے اپنی کاشت کے لئے ساڑھے چار لاکھ روپیہ کا قرض لیا تھا۔علاقے میں پڑے شدید خشک سالی کی وجہ سے نہ ہی کاشت کاری کر پائے اور نہ ہی قرض لوٹا سکے۔ جس کی وجہ سے بینکوں نے ان کی زمین کو اپنے پاس رکھ لیا اس سے پریشان ہوکرچماجی نے خود کشی کرنے کا فیصلہ کیا۔گھر والوں کا الزام ہے کی حکومت کی جانب سے انہیں کوئی راحت نہیں ملی ہے۔ایسے حالات صرف چماجی تک محدود نہیں ہیں۔رالے گاؤں کے ہی نیر تحصیل میں رہنے والے کسان بڈو کابلے نے بیٹی کی شادی کے لئے قرض لیا تھا۔بیٹی کی شادی بھی ہو گئی، لیکن خشک سالی کے سبب پیسے نہ ادا کرنے کی وجہ سے بیٹی کے شادی کے تین دن بعد والد نے اپنے کھیت میں خود کشی کر لیا۔انتظامیہ کی جانب سے مدد ملنا تو دور کی بات ہے انہوں نے انہیں کسان ماننے سے بھی انکار کر دیا۔اعداد و شمار کے مطابق اس سال میں ریاست میں اب کیلو 6.11 فیصد ہی پانی بچا ہے۔جبکہ گزشتہ سال اس وقت تک ریاست میں کل 17 فیصد پانی تھا۔وہیں 15 جون 2019 تک ریاست میں کل 6905 ٹینکر کا استعمال کیا گیا ہے۔جبکہ گزشتہ سال اسی وقت تک 1801 ٹینکر کاا استعمال کیا جاتا تھا۔خودکشی کے ان اعداد و شمار کے بعد حکومت کی اسکیموں پر سوال اٹھنا شروع ہو گیا ہے۔ایک دوسری رپورٹ کے مطابق ریاستی حکومت کی جانب سے ہوئے قرض معافی کے اعلان کے بعد ریاست میں 4500 سے زیادہ کسانوں نے خود کشی کی ہے۔کسان لیڈروں کا جہاں خیال ہے حکومت خودکشی کے صحیح اعداد و شمار کو پیش نہیں کر رہی ہے تو وہیں حکومت کی جانب سے مکمل مدد پہنچائے جانے کا دعوی کیا جا رہا ہے۔بتا دیں کہ 2014 کے انتخابات میں مہاراشٹر کو 2019 تک ٹینکر مفت کرنے کا دعوی ریاستی حکومت نے کیا تھا۔حکومت ایسا کر نہیں پائی لیکن ریاست میں ٹینکروں کی تعداد اور بھی زیادہ ہو گئی۔منگل کو مہاراشٹر حکومت کی جانب سے پیش ہوئے بجٹ میں جہاں حکومت نے وزیر اعلی کی منصوبہ بندی پانی کے پائپ پر آٹھ ہزار 94 کروڑ روپے خرچ کرنے کی بات تو کہی لیکن زمینی سطح پر اس کا کوئی بھی فائدہ کسانوں کو نظر نہیں آرہا ہے۔


Share: